Notice: Only variables should be assigned by reference in /home1/muftiism/public_html/templates/forte/vertex/responsive/responsive_mobile_sidebar.php on line 8

Notice: Only variables should be assigned by reference in /home1/muftiism/public_html/templates/forte/vertex/responsive/responsive_mobile_menu.php on line 278

سرورق

وڈیو

آڈیو

آرٹیکل

ڈاون لوڈ

ایمانیات
ایمانیات

ایمانیات (6)

توحید و رسالت . تقدیر . آسمانی کتابی . فرشتے . آخرت

سوال:- استفتاء از علمائے شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم اس مسئلے میں کہ مشہور منکرِ حدیث غلام احمد پرویز جس کو جمہور علمائے اُمت نے کافر قرار دیا ہے، اس کا ایک پیروکار، ہم عقیدہ، ہم مسلک بلکہ مسلکِ پرویز کا مبلغ مرگیا ہے، جبکہ جمہور علمائے اُمت نے پرویز کے متبعین کو بھی خارج از اسلام قرار دیا ہے۔ اس پرویزی پر اہلِ سنت و الجماعت مسلمانوں کے ایک پیش امام نے نمازِ جنازہ پڑھائی، امامِ مذکور کا کیا حکم ہے؟ غلام احمد پرویز کا کیا حکم ہے؟ اور کس بناء پر اس پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا ہے؟ اور کیا اس امام کی اقتداء دُرست ہے؟

قادیانیوں کی عبادت گاہ کو مسجد کہنے کی ممانعت
سوال:- قادیانی جماعت کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور کیا قادیانی اپنی مسجد بناسکتے ہیں یا نہیں؟ اور اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ قانوناً و شرعاً کیا حکم ہے؟ اور کیا ایسے فیصلوں کا قانون بنانا دُرست ہے کہ جس میں قادیانیوں کو اپنی عبادت گاہ مسجد کے نام سے بنانے کی اجازت دی گئی ہو؟ سائل: امام مسجد سبیل، نیوٹاؤن
جواب:- مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار، خواہ قادیانی ہوں یا لاہوری باجماعِ اُمت دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، اور ان کا دینِ اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اس حقیقتِ واقعی کو ستمبر ۱۹۷۴؁ء میں آئینی طور پر بھی تسلیم کرلیا گیا ہے، اور اس غرض کے لئے پاکستان کے دستور میں ایسی ترمیم کردی گئی ہے جس پر ملک کے تمام مسلمان متفق ہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ’’یا محمد‘‘ کے الفاظ لکھنا :
سوال:- کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع اس مسئلے میں کہ ایک مسجد جسے اب سے تقریباً پچّیس سال قبل تعمیر کیا گیا تھا، اور وقتِ تعمیر جس میں ’’یا اللہ‘‘ اور ’’یا محمد‘‘ کے الفاظ بھی کندہ کرائے گئے تھے اور پچّیس سال سے مسلسل موجود تھے، لیکن سوئِ اتفاق سے ایک نئے امام صاحب مسجد میں تشریف لائے اور انہوں نے لفظ ’’یا‘‘ مسمار کردیا۔ اب جواب طلب امر یہ ہے کہ کیا مسجد میں کندہ کسی لفظ کو یا مسجد کے کسی حصے کو منہدم کیا جاسکتا ہے؟ کیا شرعاً ایسا کرنا جائز ہے؟ اگر ’’یا اللہ‘‘، ’’یا محمد‘‘ کے الفاظ کو بعینہٖ برقرار رکھا جائے تو اس میں کوئی شرعی قباحت موجود تھی؟ براہِ کرم مذکورہ بالا استفتاء کا مستند و معتبر جواب عطا فرماکر ممنون فرمائیے، ساتھ ہی ساتھ اس بارے میں یہ بھی بتائیں کہ اس نازیبا حرکت اور گستاخی کا کفارہ کیا ادا کیا جائے؟

اسمائے حسنیٰ میں سے کون سے اسماء بندوں کے لئے :

سوال:- آج کل عموماً باری تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کے ساتھ ’’عبد‘‘ کے اضافے کے ساتھ نام رکھے جاتے ہیں، مگر عموماً غفلت کی وجہ سے مسمّیٰ کو بدون ’’عبد‘‘ کے پکارا جاتا ہے، حالانکہ بعض اسمائ، باری تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں، مثلاً عبدالرزّاق وغیرہ، اندریں احوال اپنی جستجو کے مطابق فیض الباری ج:۴ ص:۴۲۳ سے اسمائے حسنیٰ درج کر رہا ہوں، تحقیق فرمائیں کہ کون سے اسمائ، باری تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں، کہ ان کو بدون ’’عبد‘‘ کے مخلوق کے لئے استعمال کرنا گناہِ کبیرہ ہے، اگر ان کے علاوہ اور کوئی اسماء ہوں تو وہ بھی درج فرمائیں مع تحقیق کے، نیز اسماء کے شروع یا آخر میں ’’محمد‘‘ یا ’’احمد‘‘ یا ’’اللہ‘‘ کا اضافہ کیسا ہے؟ مثلاً محمد متکبر، خالق احمد، محمداللہ، احمد رزّاق۔
اﷲ، الرحمٰن، الرحیم، الملک، القدّوس، السّلام، المؤمن، المھیمن، العزیز، الجبّار، المتکبّر، الخالق، الباریٔ، المصوّر، الغفّار، القھّار، التّوّاب، الوھّاب، الخـلّاق، الرزّاق، الفتّاح، الحلیم، العلیم، العظیم، الواسع، الحکیم، الحیّ، القیّوم، السمیع، البصیر، اللّطیف، الخبیر، العلیّ، الکبیر، المحیط، القدیر، المولٰی، النصیر، الکریم، الرقیب، القریب، المجیب، الحفیظ، المقیت، الودود، المجید، الوارث، الشھید، الولیّ، الحمید، الحقّ، المبین، الغنیّ، المالک، القویّ، المتین، الشدید، القادر، المقتدر، القاھر، الکافی، الشاکر، المستعان، الفاطر، البدیع، الفاخر، الأوّل، الاٰخر، الظاھر، الباطن، الکفیل، الغالب، الحکم، العالم، الرفیع، الحافظ، المنتقم، القائم، المحیی، الجامع، الملیک، المتعالی، النور، الھادی، الغفور، الشکور، العفوّ، الرئوف، الاکرام، الأعلٰی، البر، الخفیّ، الرَّبّ، الالٰہ، الأحد، الصّمد، الذی لم یلد، ولم یولد، ولم یکن لہ کفوا أحد۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نعل مبارک کے نقش کو چومنے، اس جیسے نعل پہننے اور اس کے احترام کا حکم :

سوال:- مکرّم و محترم جناب مفتی صاحب، دامت برکاتہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ، اما بعد!
۱:- جو چیز سروَرِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے جسدِ اطہر سے متصل ہوگئی، اس کی برکات کا انکار تو کوئی جاہل یا ملحد ہی کرے گا، لیکن اس شے کی مثل ہاتھ سے تیار کرلی جائے تو کیا اس میں بھی وہ برکت آجاتی ہے؟ باَلفاظ دیگر متبرک شے کی تصویر بھی متبرک ہوتی ہے؟۔
۲:- آج کل سروَرِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے نعل مبارک کا نقشہ بہت عام ہوگیا، لوگ اس کو چومتے ہیں، برکت کے لئے سر پر رکھتے ہیں، اس کی کیا حیثیت ہے؟ اس نقشے کی یہ حیثیت مُسلَّم کہ اس سے آپ صلی علیہ وسلم کے نعل مبارک کی صورت معلوم ہوگئی، روایاتِ حدیث میں مذکور نعل کا سمجھنا آسان ہوگیا۔

اسلام کے بنیادی عقائد :
ایمان مفصل
اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ وَ مَلٰئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْاَخِرِ وَالْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَ شَرِّہٖ مِنَ اللّٰہِ تَعَالیٰ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ۔
(ترجمہ) میں ایمان لایا اللہ تعالیٰ پر اور اسکے فرشتوں پر اور اسکی کتابوں پر اور اسکے رسولوں اور آخرت کے دن پر اور اچھی اور بری تقدیر پر کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے اور مرنے کے بعددوبارہ اٹھانے پر۔
ایمان مجمل
اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ کَمَا ھُوَ بِاَسْمَآئِہٖ وَ صِفَاتِہٖ وَ قَبِلْتُ جَمِیْعَ اَحْکَامِہٖ اِقْرَار’‘ بِاللِّسَانِ وَ تَصْدِیْق’‘ بِالْقَلْبِ
(ترجمہ) میں ایمان لایا اللہ پر جیسا کہ وہ اپنے ناموں اور صفات کے ساتھ ہے اور میں نے اسکے تمام احکامات قبول کئے میں اس کا زبان سے اقرار کرتا ہوں اور دل سے تصدیق کرتا ہوں۔
(نوٹ) ایما ن مجمل اور ایما ن مفصل کے الفا ظ یا د کر نا فرض نہیں تاہم یاد کرنا بہتر ہے۔ لیکن ان میں مذکور7 مندرجات پر ایما ن لانا اور زبا ن سے اقرا ر فر ض ہے۔

برائے رابطہ

مفتی محمد اسمٰعیل طورو

جامعی مسجد اقصٰی گلی نمبر ۲ ریلوے سکیم ۷ نزد پاسپورٹ آفس راولپنڈی
رابطہ نمبر :
+92 335 0290786 (برائے ایس ایم ایس و فون)
+92 311 4440006 (برائے وٹس ایپ)
عنوان البريد الإلكتروني هذا محمي من روبوتات السبام. يجب عليك تفعيل الجافاسكربت لرؤيته.
عنوان البريد الإلكتروني هذا محمي من روبوتات السبام. يجب عليك تفعيل الجافاسكربت لرؤيته. ( پہلی ای میل سے جواب نہ آنے کی صورت میں یہاں رابطہ کریں)
صبح ۱۱ تا ۱ بجے دن، مغرب تا عشاء
تعطیل برائے جمعرات و جمعہ

معلومات برائے بینک

Account Holder: Mufti Muhammad Ismail Toru
Account number: 0100296832013
Branch code 822
IBAN : pk65AIIN00001002966832013
Al Baraka bank, Bank Road, Rawalpindi