Notice: Only variables should be assigned by reference in /home1/muftiism/public_html/templates/forte/vertex/responsive/responsive_mobile_sidebar.php on line 8

Notice: Only variables should be assigned by reference in /home1/muftiism/public_html/templates/forte/vertex/responsive/responsive_mobile_menu.php on line 278

سرورق

وڈیو

آڈیو

آرٹیکل

ڈاون لوڈ

معاملات
معاملات

معاملات (4)

زراعت . عاریت . امانت . قرض . وراثت . وصیت . ہبہ . رہن . مضاربت . شراکت . تجارت

جب سود کی حرمت کی بات چلتی ہے تو ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آجکل کا روباری زندگی کا سارا نظام بینکوں کے ذریعے چل رہا ہے اور بینکوں کا سارا کاروبار سود پر مشتمل ہے لہذا اگر سود کو خلاف قانون قراردیا جائے تو بینک کس طرح چل سکیں گے؟ اس سوال کا مفصل جواب تو درحقیقت ایک پوری کتاب کی وسعت چاہتا ہے اور اردو، عربی اور انگریزی میں اس موضوع پر بہت سی کتابیں آبھی چکی ہیں اور ہمارے ملک میں ماہرین معاشیات اور بینکرز کی ایک جماعت بلاسود بینکاری کا تفصیلی نقشہ مرتب کرنے کے لئے کام بھی کررہی ہے ۔ لیکن یہاں انتہائی اختصار کے ساتھ صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ بلاسود بینکاری کا ڈھانچہ کن بنیادوں پر استوار ہوسکتا ہے اور اس کے اساسی اصول کیا ہوں گے؟

رشوت کا گناہ شراب نوشی اور بدکار ی سے بھی زیادہ سنگین ہے
بعض برائیاں تو ایسی ہوتی ہیں جن کے بارے میں لوگوں کی رائیں مختلف ہوسکتی ہیں ایک شخص کے نزدیک وہ برائی ہے ۔ اور دوسرا اسے کوئی عیب نہیں سمجھتا لیکن رشوت ایک ایسی برائی ہوتی ہے جس کے بُرا ہونے پر ساری دنیا متفق ہے کوئی مذہب وملت، کوئی مکتب فکر یا انسانوں کا کوئی طبقہ ایسا نہیں ملے گا جو رشوت کو بدترین گناہ یا جرم نہ سمجھتا ہو ،حدیہ ہے کہ جو لوگ دن کے وقت دفتروں میں بیٹھ کر دھڑلے سے رشوت کا لین دین کرتے ہیں وہ بھی جب شام کو کسی محفل میں معاشرے کی خرابیوں پر تبصرہ کریں گے تو ان کی زبان پر سب سے پہلے رشوت کی گرم بازاری ہی کا شکوہ آئے گا اور اس کی تائید میں وہ (اپنے نہیں) اپنے رفقائے کار کے دوچار واقعات سنا دیں گے

میرے محترم و مکرم ساتھیو!اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو نہایت مختصر وقت کیلئے اس دنیا میں بھیجاہے مثلا ایک آدمی کی عمر ساٹھ سال ہو گئی۔ تیس سال تو وہ سوتا ہے باقی تیس سال رہ گئے پانچ سال بڑھاپے کے کاٹو پانچ سال بچپن کے کاٹو۔تو صرف بیس سال رہ گئے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ عقل مند آدمی وہ ہے جو اپنے آپ کو پہچانے اور موت کے بعد کیلئے تیاری کرے اور بیوقوف آدمی وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات کے پیچھے لگائے اور اللہ پر امیدیں باندھے ۔لہٰذا ہم کو چاہیے کہ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جائیں۔

یادرکھیں کہ اسلام فطری حسن کا مخالف نہیں بلکہ داعی ہے۔ ہر قسم کی زینت کی چیزیں، خوشبو، پاﺅڈر، میک اپ کے دیگر سامان کا استعمال جائز ہے۔ لیکن بالوں کا کاٹنا، اور اس طرح کا میک اپ کرنا جس سے جسم کے خدوخال نمایاں ہوں گناہ ہے۔ فطری حسن کو بنانا جائز فعل ہے۔ تاہم فطرت کے حسن کو بگاڑ کر حسن پیدا کرنا گناہ ہے۔ پھر آج کل تو مرد حضرات بیوٹی پارلروں میں عورتوں کا میک اپ کراتے ہیں جو شرعاً ناجائز ہے۔ اس طرح فوٹو والوں کو قیامت کے دن سخت عذاب ہو گا۔ اور یہ ہی حکم مووی بنانے اور بنوانے کا ہے۔

برائے رابطہ

مفتی محمد اسمٰعیل طورو

جامعی مسجد اقصٰی گلی نمبر ۲ ریلوے سکیم ۷ نزد پاسپورٹ آفس راولپنڈی
رابطہ نمبر :
+92 335 0290786 (برائے ایس ایم ایس و فون)
+92 311 4440006 (برائے وٹس ایپ)
عنوان البريد الإلكتروني هذا محمي من روبوتات السبام. يجب عليك تفعيل الجافاسكربت لرؤيته.
عنوان البريد الإلكتروني هذا محمي من روبوتات السبام. يجب عليك تفعيل الجافاسكربت لرؤيته. ( پہلی ای میل سے جواب نہ آنے کی صورت میں یہاں رابطہ کریں)
صبح ۱۱ تا ۱ بجے دن، مغرب تا عشاء
تعطیل برائے جمعرات و جمعہ

معلومات برائے بینک

Account Holder: Mufti Muhammad Ismail Toru
Account number: 0100296832013
Branch code 822
IBAN : pk65AIIN00001002966832013
Al Baraka bank, Bank Road, Rawalpindi