Notice: Only variables should be assigned by reference in /home1/muftiism/public_html/templates/forte/vertex/responsive/responsive_mobile_sidebar.php on line 8

Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home1/muftiism/public_html/templates/forte/vertex/responsive/responsive_mobile_menu.php on line 158

Notice: Only variables should be assigned by reference in /home1/muftiism/public_html/templates/forte/vertex/responsive/responsive_mobile_menu.php on line 278

Home

Video

Audio

Articles

Download

عبادات

فضائل و زیارات مکہ مکرمہ

Rate this item
(3 votes)

حق تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ یقینا وہ مکان سب سے پہلے لوگوں(کی عبادت) کے واسطے مقرر کیا گیا وہ مکان ہے جو مکہ میں ہے(یعنی کعبہ شریف)وہ برکت والا مکان ہے اور تمام لوگوں کے لئے ہدایت (کی چیز )ہے۔
فائدہ۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے نقل کیا گیا کہ مکانات تو اس سے پہلے بھی تھے لیکن عبادت کے لئے سب سے پہلے یہی مکان موضوع ہوا۔
جیسا کہ مکہ مکرمہ میں نیکیوں کا ثواب بہت زیادہ ہے ایسے ہی وہاں گناہ کا وبال بھی سخت ہے اسی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہے کہ مکہ سے باہر ستر لغزشیں مکہ کی ایک لغزش سے بہتر ہیں۔
بہتر ہے کہ جب مسجد شریف میں داخل ہو اعتکاف کی نیت کر لیا کرے تا کہ اتنی دیر اعتکاف کا ثواب مستقل ہوتا رہے اور مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں تو خاص طور سے اس کا خیال رکھے۔ حضور اکرم ﷺکا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ایک سو بیس رحمتیں روزانہ اس گھر پر نازل ہوتی ہیں

جن میں سے ساٹھ طواف کرنے والوں پر اور چالیس وہاں نماز پڑھنے والوں پر اور بیس بیت اللہ کو دیکھنے والوں پر ہوتی ہیں۔ بیت اللہ شریف کو صرف دیکھنا بھی عبادت ہے حضرت سعید بن المسیب رحمتہ اللہ تابعی فرماتے ہیں کہ جو ایمان و تصدیق کے ساتھ کعبہ کو دیکھے وہ خطایا سے ایسا پاک ہو جاتا ہے جیساکہ آج پیدا ہوا۔حضرت عطاءسے یہ بھی نقل کیا گیا کہ ایک مرتبہ بیت اللہ کو دیکھنا ایک سال کی عبادت نفل کے برابر ہے۔
مقام ابراہیم : مقام ابراہیم ایک پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰة والتسلیم نے کعبہ کی تعمیر کی تھی اور اس پتھر پر آپ کے قدموں کا نشان بن گیا تھا۔اور اب وہ کعبہ شریف کے قریب ایک قبہ میں ہے جس کو مقام ابراہیم ہی کہا جاتا ہے۔مجاہد کہتے ہیں کہ اس پتھر میں قدم کے نشانات کا ہونا بھی ایک کھلی نشانی ہے۔(درمنثور)
حجر اسود : حضور اقدس ﷺ قسم کھا کر ارشاد فرماتے ہیں کہ حجر اسود کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایسی حالت میں اٹھائیں گے کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گا اور زبان ہو گی جس سے وہ بولے گا اور گواہی دے گا اس شخص کے حق میں جس نے اس کو حق کے ساتھ بوسہ دیا ہو۔
فائدہ : حق کے ساتھ بوسہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ ایمان اور تصدیق کے ساتھ بوسہ دیا ہو۔
رکن یمانی : حضوراکرم ﷺکا ارشاد ہے کہ رکن یمانی پر ستر فرشتے مقرر ہیں جو شخص وہاں جا کر یہ دعا پڑھے۔
اے اللہ میں تجھ سے معافی کا طالب ہوں اور دونوں جہاں میں عافیت مانگتا ہوں اے اللہ تو دنیا میں بھی بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی اور جہنم کے عذاب سے حفاظت فرما۔
اس کی دعا پر آمین کہتے ہیں۔ اس جگہ اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام اس طرح ہونا چاہیے جس میں دوسروں کو اذیت نہ پہنچے کہ یہ فعل مستحب ہے اور مسلمان کو ایذا پہنچا نا حرام ہے۔
ملتز م : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حضور ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ ملتزم ایسی جگہ ہے جہاں دعا قبول ہوتی ہے کسی بندہ نے وہاں ایسی دعا نہیں کی جو قبول نہ ہوئی ہو۔
فائدہ : ملتزم حجر اسود سے لے کر کعبہ شریف کے دروازے تک کا حصہ کہلاتا ہے غالبًا اسی وجہ سے اس کا نام ملتزم ہے کہ اس کے معنی چمٹنے کی جگہ کے ہیں۔ابو داو¿د میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا کہ انہوں نے اس جگہ کھڑے ہو کر اپنے سینہ اور چہرے کو دیوار سے چمٹا دیا اور دونوں ہاتھوں کو دیوار پر پھیلا دیا اور یہ کہا کہ میں نے اسی طرح حضور اقدس ﷺ کو کرتے دیکھا۔
آبِ زمزم : نبی اکرم ﷺ کا پاک ارشاد ہے کہ زمزم کا پانی جس نیت سے پیا جائے وہی فائدہ اس سے حاصل ہوتا ہے۔
فائدہ : حضور ﷺ نے ایک مرتبہ ڈول بھرنے کا حکم فرمایا ڈول بھر کر کنویں کے کنارے پر رکھا گیا۔  حضور ﷺ نے اس ڈول کو ہاتھ سے پکڑ کر بسم اللہ کہہ کر دیر تک پیا پھرفرمایا الحمد اللہ اس کے بعد پھر بسم اللہ کہہ کر پیا پھر فرمایاالحمداللہ۔ارشاد فرمایا کہ ہم میں اور منافقوں میں یہی فرق ہے کہ وہ خوب سیراب ہو کر اس کو نہیں پیتے۔
حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے ایک خط میں مکہ والوںکو لکھا تھا کہ مکہ مکرمہ میں پندرہ مواقع میں دعا قبول ہوتی ہے۔
 

۱۔ طواف کرتے ہوئے    ۲۔ ملتزم پر چمٹ کر    ۳۔میزاب رحمت کے نیچے     ۴۔ کعبہ شریف کے اندر
۵۔ زمزم کے قریب    ۶۔صفا پر    ۷۔مروہ پر     ۸۔صفا مروہ کے درمیان سعی کرتے ہوئے۔
۹۔مقام ابراہیم کے پیچھے    ۰۱۔عرفات میں    ۱۱۔مزدلفہ میں    ۲۱۔مِنٰی میں    ۳۱،۴۱،۵۱۔تینوں جمرات (حج کے دنوں میں کنکر یا ں ماری جاتی ہیں ان تینوں جگہوں میں ایک ایک مینارہ یا دیوار بنا دیا گیا ہے) کے قریب۔
ملاعلی قاری رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ رکن یمانی اور حجراسود کے درمیان بھی دعا قبول ہوتی ہے۔نیز دارِارقم(صفا کے قریب ایک مکان تھا اسی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ مشرف بااسلام ہوئے تھے۔یہ گھر اب راستہ کی توسیع میں آگیا ہے) اور غارِثور اورغارِحرا میں بھی۔

ویسے تومکہ مکرمہ سارا ہی با برکت ہے اس کی ہر جگہ ہر دیوار ہر پتھر اور ریت کا ذرہ بابرکت ہے لیکن چند مقامات
اور بھی زیادہ خصوصیت رکھتے ہیں ۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا دولت کدہ جہاں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں اور حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے علاوہ سب اولاد یہیں پیدا ہوئی۔ ہجرت تک حضور اقدس ﷺ کا قیام اسی مکان میں رہا۔علماء نے لکھا ہے کہ مسجد حرام کے بعد مکہ کے تمام مکانات میں یہ مکان افضل ہے۔
دوسرے حضور اقدس ﷺ کی پیدائش کی جگہ جو مولدِ نبی کے نام سے مشہور ہے۔تیسرے حضرت ا بوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مکان جو زقاق صواغین)زر گروں کی گلی( میں ہے اس کو دار الہجرت بھی کہتے ہیں اس لئے کہ ہجرت کی ابتداء اسی مکان سے ہوئی ہجرت سے قبل حضور ﷺ روزانہ یہاں تشریف لایا کرتے تھے۔وہاں دو پتھر تھے ایک کا نام متکلم ہے اُس نے حضور اقدس ﷺ کو سلام کیا تھا دوسرا متکا جس پر حضور ﷺ ٹیک لگا کر بیٹھتے تھے۔ مولد علی کرم اللہ وجہہ کی پیدائش کی جگہ دارِارقم جو دارِ خیزران سے مشہور ہے صفا پہاڑ کے قریب ہے اس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے تھے اور چالیس کا عدد آپ کے ایمان لانے پر پورا ہوا تھا اور قرآن پاک کی آیت ( یٰٓاَیُّھَاالنَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰہُ وَمِنَ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ) اس پر نازل ہوئی تھی اس میں حضور اقدس ﷺ ابتدائے اسلام میں مخفی رہا کرتے تھے۔ جبلِ ثور کا غار جس میں ہجرت کے وقت حضور اقدس ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پوشیدہ ہوئے تھے قرآن پاک میں (ثانی اثنین اذھما فی الغار ) میں اسی غارکا ذکر ہے۔جبلِ حرا کا غار جس میں حضور اقدس ﷺ نبوت سے پہلے کئی کئی دن تک عبادت کیا کرتے اور تنہائی اختیار فرمایا کرتے تھے اور اسی میں سب سے پہلے آپ ﷺ پراقراء نازل ہوئی مسجد الرایۃ مکہ میں جنت المعلٰی کی طرف ہے حضور اقدس ﷺ نے اس میں نمازپڑھی ہے۔ مسجد الجن جس جگہ جنات کااجتماع ہوا اورحضور اقدس ﷺ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس جگہ تشریف لے گئے اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو ایک جگہ بٹھا کر خود آگے تشریف لے گئے اور جنات کو تعلیم فرمائی قرآن پاک سنایا۔مسجد الشجرۃ جو مسجد جن کے مقابل ہے۔اس جگہ ایک درخت تھا جس کو حضور اقدس ﷺ نے بلایا وہ زمین چیرتا ہوا حاضر خدمت ہو گیا پھر حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ واپس چلے جاؤ وہ اپنی جگہ واپس گیا۔مسجد الغنم جس کو الاجابۃ بھی کہتے ہیں۔اس جگہ حضور اقدس ﷺ نے فتح مکہ میں بیعت لی تھی۔مسجد اجیاد،مسجد جبل ابوقبیس جو حرم شریف سے نظر آتی ہے لیکن اس جگہ بکری کی سری کھانے کے متعلق جو روایت مشہور ہے وہ غلط ہے۔مسجد طوےٰ جو تنعیم کے راستہ میں ہے حضور اقدس ﷺ کی جب عمرہ یا حج کے لئے تشریف آوری ہوئی تو اس جگہ قیام فرمایا۔مسجد عائشہ تنعیم پر جہاں عمرہ کا احرام باندھا جاتا ہے۔مسجد العقبہ منٰی کے قریب جہاں انصار نے ہجرت سے قبل بیعت کی تھی یہ مسجد مکہ سے مِنٰی جاتے ہوئے بائیں ہاتھ پر راستہ سے علیحدہ کو ہے۔مسجد الجعرانہ جہاں حضور اقدس ﷺ نے فتح مکہ کے بعد جب طائف سے لوٹ رہے تھے احرام باندھا تھا۔مسجد الکبش جس کو منحر ابراہیم بھی کہتے ہیںیہاں حضرت ابرہیم علیہ السلام نے حضرت اسمٰعیل کو ذبح کیاتھا۔مسجد الخیف مِنٰی میں مشہور ہے جس میں کہتے ہیں کہ ستر نبی وہاں مدفون ہیں۔غارِ مرسلات جو مسجد خیف کے قریب ہے سورۃ والمرسلات وہاں نازل ہوئی۔ جنت المعلٰی مکہ مکرمہ کا مقبرہ جہاں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی قبر ہے اوراحادیث میں اس مقبرہ کی فضیلت بھی آئی ہے۔
حج و عمرہ کی فضیلت : حضوراقدس ﷺ کا پاک ارشاد ہے کہ ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک درمیانی حصہ کے لئے کفارہ ہے۔
حضرت اُم سلیم رضی اللہ عنہا حضوراقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میرے خاوند ابو طلحہ اور ان کے بیٹے تو حج کو چلے گئے اور مجھے چھوڑ گئے۔حضوراقدس ﷺ نے فرمایا کہ رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔
حضوراقدس ﷺ کا ارشاد ہے کہ حج کرنے والے اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کا وفد ہیں اگر وہ لوگ دعا مانگیں تو اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول کرتا ہے اور اگر وہ مغفرت چاہیں تو ان کے گناہوں کی مغفرت فرماتا ہے۔
حضوراقدس ﷺ کا ارشاد ہے کہ بوڑھے ، ضعیف لوگوں اور عورتوں کا جہاد ، حج اور عمرہ ہے۔

Contact us

Mufti Muhammad Ismail Toru

Jamia Masjid-e-Aqsa Street No. 2 Railway Scheme No. 7 Railway Hospital Near Passport Office, Rawalpindi
Phone no. : 
+92 335 0290786 (for SMS n Call)
+92 311 4440006 (for whatsapp)
Email 1 : This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
Email 2 : This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. (in case you don't get answered from Email 1)
Timing : 11 AM - 1:00 PM , and between Magrib & Esha Prayers, Thursday & Friday is Off

Bank Information :

Account Holder: Mufti Muhammad Ismail Toru
Account number: 0100296832013
Branch code 822
IBAN : pk65AIIN00001002966832013
Al Baraka bank, Bank Road, Rawalpindi