Notice: Only variables should be assigned by reference in /home1/muftiism/public_html/templates/forte/vertex/responsive/responsive_mobile_sidebar.php on line 8

Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home1/muftiism/public_html/templates/forte/vertex/responsive/responsive_mobile_menu.php on line 158

Notice: Only variables should be assigned by reference in /home1/muftiism/public_html/templates/forte/vertex/responsive/responsive_mobile_menu.php on line 278

Home

Video

Audio

Articles

Download

عبادات

مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنے کا حکم

Rate this item
(0 votes)

سوال:- آدم جی نگر کی مکہ مسجد کو تعمیر ہوئے ۱۵ سال تقریباً ہوگئے، تب سے جنازے کی نماز مسجد کے میدان میں ہوا کرتی تھی، امام صاحب کی امامت کے آخری ایام میں محراب کے بیچ میں کھڑکی توڑ کر دروازہ بنادیا گیا اور محراب کے باہر چار فٹ اُونچا چبوترہ بنایا گیا، اب چبوترے پر جنازہ رکھ دیا جاتا ہے اور محراب کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے، جنازہ کی نماز مسجد میں پڑھی جاتی ہے، نئے امام صاحب نے جنازے کی نماز کا یہ طریقہ بند کردیا ہے اور پہلے کی طرح نماز کھلے میدان میں ہونے لگی ہے، مولانا مفتی محمد اسماعیل صاحب نے گجراتی کتاب میں جو فتویٰ کی کتاب ہے، لکھا ہے کہ جنازے کی نماز کسی حالت میں مسجد میں پڑھنا مذہبِ حنفی میں مکروہِ تحریمی ہے۔ اب کون سا طریقہ دُرست تھا؟ بہشتی گوہر میں مسئلہ کیا لکھا ہے؟ اور کہا جاتا ہے کہ حرمین میں مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھی جاتی ہے، آپ واضح فرمائیں کیا حکم ہے؟

جواب:- میّت کو محراب سے باہر رکھ کر اگر نمازِ جنازہ مسجد کے اندر پڑھی جائے تو راجح قول کے مطابق یہ صورت بھی مکروہ ہے، البتہ آس پاس نمازِ جنازہ پڑھنے کے لئے کوئی اور جگہ نہ ہو تو مجبوراً فقہاء نے اس کی اجازت دی ہے، لیکن چونکہ صورتِ مسئولہ میں مسجد کے ساتھ مسجد ہی کا کھلا میدان موجود ہے اس لئے جس مسجد کے بارے میں سوال ہے وہاں مسجد کے اندر بلاعذر نماز پڑھنا مکروہ ہے، نئے امام صاحب کا طریقہ دُرست ہے جو نمازِ جنازہ کھلے میدان میں پڑھاتے ہیں، ایسا ہی کرنا چاہئے، لما فی الدر المختار: واختلف فی الخارجۃ عن المسجد وحدہ أو مع بعض القوم والمختار الکراھۃ مطلقًا خلاصۃ ۔۔۔۔ وھو الموافق لاطلاق حدیث أبی داوٗد من صلّی علٰی میّت فی المسجد فلا صلٰوۃ لہ، (وقال الشامیؒ انما تکرہ فی المسجد بلا عذر فان کان فلا، شامی)۔(۱)
بہشتی گوہر،(۲) امداد الفتاو(۳)یٰ وغیرہ سب میں مسئلہ اسی طرح ہے، اور جب مسجد کے ساتھ کھلی جگہ موجود ہے تو مکروہِ تحریمی، مکروہِ تنزیہی کی بحث میں نہیں پڑنا چاہئے، باہر ہی نماز پڑھنی چاہئے۔ حرمین شریفین کے امام صاحب، مذہب میں حنبلی ہیں، اور حنبلی مذہب کے اندر مسجد میں نمازِ جنازہ جائز ہے۔(۴)

More in this category: « حج کا طریقہ

Contact us

Mufti Muhammad Ismail Toru

Jamia Masjid-e-Aqsa Street No. 2 Railway Scheme No. 7 Railway Hospital Near Passport Office, Rawalpindi
Phone no. : 
+92 335 0290786 (for SMS n Call)
+92 311 4440006 (for whatsapp)
Email 1 : This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
Email 2 : This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. (in case you don't get answered from Email 1)
Timing : 11 AM - 1:00 PM , and between Magrib & Esha Prayers, Thursday & Friday is Off

Bank Information :

Account Holder: Mufti Muhammad Ismail Toru
Account number: 0100296832013
Branch code 822
IBAN : pk65AIIN00001002966832013
Al Baraka bank, Bank Road, Rawalpindi