Notice: Only variables should be assigned by reference in /home1/muftiism/public_html/templates/forte/vertex/responsive/responsive_mobile_sidebar.php on line 8

Notice: Only variables should be assigned by reference in /home1/muftiism/public_html/templates/forte/vertex/responsive/responsive_mobile_menu.php on line 278

Home

Video

Audio

Articles

Download

معاملات

بیوٹی پارلر،فوٹو اور مووی

Rate this item
(3 votes)

یادرکھیں کہ اسلام فطری حسن کا مخالف نہیں بلکہ داعی ہے۔ ہر قسم کی زینت کی چیزیں، خوشبو، پاﺅڈر، میک اپ کے دیگر سامان کا استعمال جائز ہے۔ لیکن بالوں کا کاٹنا، اور اس طرح کا میک اپ کرنا جس سے جسم کے خدوخال نمایاں ہوں گناہ ہے۔ فطری حسن کو بنانا جائز فعل ہے۔ تاہم فطرت کے حسن کو بگاڑ کر حسن پیدا کرنا گناہ ہے۔ پھر آج کل تو مرد حضرات بیوٹی پارلروں میں عورتوں کا میک اپ کراتے ہیں جو شرعاً ناجائز ہے۔ اس طرح فوٹو والوں کو قیامت کے دن سخت عذاب ہو گا۔ اور یہ ہی حکم مووی بنانے اور بنوانے کا ہے۔


میری محترم اور مکرم پیاری بہنو! ہم کو اﷲ تعالیٰ نے اس دنیا میں نہایت مختصر وقت کے لیے بھیجا ہے۔ وہاں کے ایک دن کے مقابلہ میں ہماری زندگی ڈھائی منٹ بھی نہیں بنتی۔ اس مختصر سی زندگی کےلئے اﷲ تعالی کا ارشاد ہے کہ ”اﷲ وہی ذات ہے جس نے موت اورحیات کو پیدا کیا تا کہ تمہارا امتحان لے لے کہ کس کا عمل خوبصورت ہے “ (سورة الملک آیت ۲) اور حضورِ اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ عقل مند آدمی وہ ہے جو اپنے آپ کو پہچان لے اور موت کے بعد کےلئے تیاری کرے اور بےوقوف شخص وہ ہے جو خواہشات کے پیچھے لگا رہے اور اﷲ تعالیٰ پر امیدیں باندھتا رہے۔(تر مذی، ابن ما جہ ) ارشادِ پیغمبر خدا ہے کہ دنیا میں ایسے رہو جیسے کہ آپ مسافر ہیںیا راستے پر گزرنے والا( بخا ری شر یف،مشکوٰة ج ۲ص۰۵۴ ) لہٰذا ہم کو یہ مختصر زندگی اﷲ کے احکام اور نبی کریم ﷺ کے طریقوں کے مطابق گزارنی چاہئے۔ اور خصوصاً ہمارا کاروبار شریعت کی حدود(Boundries)کے اندر ہونا چاہئے ورنہ حرام پیٹ میں جانے کی وجہ سے ہماری عبادت کا کوئی ثواب نہیں ہوگا اور مسلم شریف میں حضورِ اکرم ﷺ کا ارشاد ہے ”عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ آدمی پرواہ نہیں کرے گا کہ حرام مال لے رہا ہے یا حلال“ اور یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی بھی ہے۔ تو یہ تو نہیں ہونا چاہئے کہ ہم خود قیامت کی نشانی بنیں۔ قیامت کی نشانیاں دو قسم کی ہیں ایک وہ جو قیامت قریب آنے سے کچھ پہلے رونما ہوں گی جو کل دس ہیں اور کچھ نشانیاں ایسی ہیں جو اس طرف اشارہ کریں گی کہ اب قیامت آرہی ہے۔ میں سب سے پہلے قیامت کی کچھ نشانیاں بتاتا ہوں اور پھر بیوٹی پارلر(Beauty Parlour) کا شرعی حکم اخیر میں ذکر کروں گا۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کو اپنا ڈر اور آخرت کا خوف اور جوابدہی کی فکر نصیب فرمائے آمین۔ بخاری ،مسلم، ابودا¶د،ترمذی اور دیگر احادیث کی کتب میں قیامت کی جو نشانیاں ذکر کی گئی ہیں اُن میں سے چند یہاں ذکر کی جاتی ہیں تا کہ آدمی فکر میں پڑ جائے کہ کیا ہونے والا ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں چنانچہ حضورِ اکرم ﷺ کا ارشاد ہے جب تم دیکھو کہ لوگ نمازیں غارت کرنے لگیں، امانت ضائع کرنے لگیں، سود کھانے ، جھوٹ کو حلال کرسمجھنے
معمولی بات پر خون ریزی کرنے، اونچی اونچی بلڈنگ بنانے، دین بیچ کر دنیا کمانے والے، ظلم طلاق اور ناگہانی موت ( Heart Attack, Accidents)عام ہو جائے، خیانت کار کو امانتدار، جھوٹ کو سچ، تہمت تراشی، بارش کے باوجود گرمی، کمینوں کی ٹھاٹھ ہو، امیر و وزیر جھوٹ کے عادی ہوں، عالم اور قاری بدکار ہو جائیں، سونا چاندی عام ہو جائیں، گناہ زیادہ ہو جائیں، قرآن کے نسخوں کو آراستہ کیا جائے، شرابیں پی جائیں، اسلامی سزائیں ختم کر دی جائیں، مرد عورت اور عورت مردوں کی نقالی کریں، غیر اﷲ کی قسمیں کھائی جائیں( مثلاً بیٹے کی قسم، ماں کی قسم) صرف جان پہچان والوں کو سلام کیا جائے، کمینہ آدمی قوم کا سربراہ بن جائے، آدمی باپ کا نافرمان ہو جائے ، ماں سے بدسلوکی کرے، مسجدوں میں دنیاوی آوازیں بلند ہو جائیں، زکوٰة کو ٹیکس سمجھنے لگیں، شوہر اپنی بیوی کی بے جا اطاعت کرے، اولاد والدین کی نافرمان ہو جائے، کھیل کود ، ناچ گانا، زناکاری عام ہو جائے، ملاقات کے وقت سلام کی بجائے دل لگی کی خاطر گالیاں دینے لگیں، شرم و حیا اٹھ جائے، عورتیں زیادہ ہو جائیں، قرآن کو ذریعہ معاش بنا دیا جائے، لکھنے پڑھنے کا رواج ہو جائے لیکن صرف دنیا کے لئے، قرآن کے ساتھ گانے بجانے کے آلات بجائے جائیں، تجارت اتنی عام ہو جائے کہ عورت بھی شوہر کا ہاتھ بٹانے لگے، چرب زبانی سے روپیہ کمایا جائے ، جھوٹے نبی پیدا ہوں، نیکیوں کا حکم دینا اور برائیوں سے منع کرنا رک جائے، لوگ موٹی موٹی گدیوں والی سواری( کاروں) پر مسجدوں کے دروازوں تک آئیں، ان کی عورتیں کپڑوں میں ہوں گی مگر ننگی ہوں گی( کپڑے باریک ہوں گے یاچست ہوں گے) اُن کے سر کے بال بختی اونٹ کے کوہان کی طرح اوپر کو ہوں گے( بال کٹے ہوں گے یا سر کے بالکل اوپر جوڑا بنایا ہو گا) لچک لچک کر چلیں گی، لوگوں کو اپنی طرف مائل کریں گی یہ لوگ نہ جنت میں داخل ہوں گے نہ اُس کی خوشبو پائیں گے۔ چاروں طرف سے کفار کا ہجوم مسلمانوں پر حملہ کرے گا، بدعتوں کا فروغ ہو گا، نئے نئے غیر آباد علاقے آباد ہو جائیں گے، دینی مسائل میں ہر ایرا غیرا اپنی رائے پیش کرے گا، عذابِ قبر اور شفاعت کا انکار کریں گے، دین کی باتوں میں تاویلیں کی جائیں گی، یہود و نصاریٰ کی نقالی ہو گی، نوجوان بے کار اور لڑکیاں اور عورتیں آپے سے باہر ہوں گی، حالات میں دن بہ دن شدت ہوتی جائے گی، معمولی بچہ بھی بوڑھے کو جھڑکے گا، ہر آدمی کا اہم مقصد شکم پروری اور خواہش پرستی ہو گا، بدکاری اور بے حیائی کا نام ثقافت اور فنونِ لطیفہ ہو گا، حرام حرام چیزوں میں اپنے لئے ناجائز تاویلیں کریں گے اور ایسا زمانہ آ جائے گا کہ پھر یہ لوگ خنزیر اور بندر کی شکل میں مسخ ہو جائیں گے ۔ آلاتِ موسیقی، ڈانس کرنے والی عورتیں اور طبلہ سارنگی عام ہو جائے گا، اداکارائیں عام ہو جائیں گی (جس طرح کہ ہر اخبار کے ہر رنگین صفحے پر لوگوں کو گمراہ کرنے والی اداکارا¶ں کی تصاویر)ایسا وقت آ جائے گا کہ صاحبِ اولاد عورتیں غمزدہ اور بے اولاد خوش ہوں گی، اسلام کا کام وہ کریں گے جو مسلمان نہ ہوں گے( جس طرح کہ کافروں نے مسلمانوں کے اچھے اخلاق اختیار کر لئے) اعلانیہ فحش حرکات ہوں گی، لاعلاج امراض (کینسر، ایڈز )ہوں گے، عماموں کو چھوڑ کر ننگے سر کا رواج ہو گا، جید علمائے کرام کم ہو جائیں گے، داڑھیاں
صاف کی جائیں گی، چمڑے کے جوتے پہن کر اُسے خوب چمکائیں گے، مرد عورتوں کی طرح زینت کریں گے، طرح طرح کے کھانے اور کپڑے ہوں گے، زمین سکڑ جائے گی اور زمانہ ایک دوسرے کے قریب آ جائے گا ( جدید ذرائع ابلاغ ٹیلیفون، ہوائی جہاز) جوتے کا تسمہ باتیں کرے گا( جدید آلات اور کیبلز)سر پر کوہان نما شے ہو گی( عورتیں سر کے بال کٹوائیں گی اور وگ پہنیں گی)لوگ بازاروں میں چلیں گے اور رانیں نظر آئیں گی( مرد و عورت کی پتلون ، سکرٹ اور جینز)مسلمان مسلمان کو قتل کریں گے، اوباش چلتی عورتوں سے چھیڑ چھاڑ کریں گے، چھیڑنے والا ہنسینگے اور سب بھی ہنسے گے، اﷲ کے سامنے جوابدہی کا خوف نہیں ہو گا، بغیر علم کے دین کے مسئلے بتائے جائیں گے ، مرد ریشمی اور رنگین کپڑے پہنیں گے، ۳۷ فرقے (قادیانی، پرویزی ، قرآن کے منکر اور اس میں تحر یف کے قا ئل وغیرہ)ہو جائیں گے ، صرف وہ جنت میں جائے گا جو میری سنت اور صحابہ کی جماعت کو مانے گا( اہل سنت والجماعت) ہم جنس سے لذت حاصل کریں گے، قلمی طوفان آ جائے گا(Yellow journalism)ہر آدمی اپنی رائے پر ایسا اصرار کرے گا کہ گویا وہی ٹھیک کہتا ہے، سر دوپٹے سے خالی ہو کر عورتیں کولہے مٹکا کر چلیں گی، بال پھلا کر سروں کو موٹا کریں گی اور قیامت کے قریب ایک بار پھر اسلامی خلافت خراسان (افغانستان )سے شروع ہو کر پوری دنیا میں قائم ہو گی(مسلمانوں نے الحمد ﷲ ۰۰۲۱ سال حکومت کی ہے اور اب سو سال سے کچھ زائد ہمارے اعمال کی وجہ سے کافروں کا دبدبہ ہے)۔ میری محترم پیاری بہن! کیا اس میں کوئی نشانی رہ چکی ہے جو رونما نہ ہوئی ہو؟ کیا ابھی بھی اﷲ تعالیٰ سے خوف نہیں؟ لہٰذا آپ نے جو بیوٹی پارلر کھولا ہوا ہے کیا آپ نے جید مفتیان سے اِس کا قرآن و حدیث سے ثابت حکم معلوم کیا ہے؟ شریعت کے اندر عورتوں کا بال کاٹنا، بھنوئیں باریک کرنا، ہاتھ اور پیروں کے وہ بال جو تمام عورتوں کے عموماًہوتے ہی ہیںاتروانا، وضو اور غسل کے دوران نیل پالش لگی رہنا، لمبے ناخنوں کی سیٹنگ،شادی میں مرد عورت کا اختلاط بلکہ دلہن کی تیاری کے لئے نامحرم مردوں کے ساتھ جانا ، نامحرم مردوں پر گزرتے ہوئے خوشبو کا استعمال، شادی شدہ بچوں والی ماں کے بالوں کو سیاہ کرنا ،دکان کے باہر یا اندر نیم عریاں مسلم اور ہندو اداکارا¶ں کی تصاویر لگانا، مردوں کے بازار میں مسلمان عورت کا بیٹھنا اور اُن کے سامنے بے پردگی کے ساتھ روزانہ آنا جانا یہ سارے ایسے کام ہیں جو قرآن و حدیث کی رو سے خالص گناہ اور حرام ہیں (پیاری بہن ! تھوڑا خالی الذہن ہو کر خوب سوچ لیں کہ کیا بیوٹی پارلر کھول کر اِن حرام کاموں سے آپ بچ سکتی ہیں؟ اگر نہیں اور واقعی نہیں تو دنیاوی تھوڑے نفع کی خاطر اپنی آخرت کیوں برباد کرتی ہو) اور سب سے بڑا گناہ تو یہ ہے کہ گناہ پر شرمندگی بھی نہیں بلکہ اُس کو جائز سمجھا جائے(اور آپ کی اطلاع کےلئے عرض ہے کہ کافروں نے مسلمانوں کے جتنے علاقے لے لئے مثلاً افغانستان اور عراق اُس میں انہوں نے اپنی سرپرستی میں بیوٹی پارلز کی بھر مار کر دی۔ کیوں؟ اِس کے پسِ پردہ وہ حقائق ہیں جو نہ زبان پر لائی جاسکتی ہیں اور نہ تحریر میں۔چنانچہ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے انتھوا من مواضع التہم”تہمت کی جگہوں سے بچو‘
نوٹ: تاہم مہندی لگانا، ماہواری میں نیل پالش لگانا، کِٹ میں موجود مختلف رنگوں سے چہرے کو مزین کرنا، مختلف لوشن اور کریم کے ذریعے چہرہ ، ہاتھ اور پیروں کو خوبصورت بنانا، اگر ”مردوں کی طرح “مونچھ اور داڑھی نکل آئے تو اُس کو اکھیڑنا ، خوشبو دار پا¶ڈر ( گھر کے اندر یا عورتوں کی مجلس میں)لگانا ، بدن پر اچھے انداز سے زیورات سجانا شریعت کے اندر جائز بلکہ خاوند کے سامنے اجرکا باعث ہے۔ لیکن یہی چیزیں اُس وقت حرام بن جاتی ہیں جب نامحرموں کو دکھانا مقصود ہو یا اُن کو دکھا دیا جائے۔

Contact us

Mufti Muhammad Ismail Toru

Jamia Masjid-e-Aqsa Street No. 2 Railway Scheme No. 7 Railway Hospital Near Passport Office, Rawalpindi
Phone no. : 
+92 335 0290786 (for SMS n Call)
+92 311 4440006 (for whatsapp)
Email 1 : This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
Email 2 : This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. (in case you don't get answered from Email 1)
Timing : 11 AM - 1:00 PM , and between Magrib & Esha Prayers, Thursday & Friday is Off

Bank Information :

Account Holder: Mufti Muhammad Ismail Toru
Account number: 0100296832013
Branch code 822
IBAN : pk65AIIN00001002966832013
Al Baraka bank, Bank Road, Rawalpindi