Notice: Only variables should be assigned by reference in /home1/muftiism/public_html/templates/forte/vertex/responsive/responsive_mobile_sidebar.php on line 8

Notice: Only variables should be assigned by reference in /home1/muftiism/public_html/templates/forte/vertex/responsive/responsive_mobile_menu.php on line 278

Home

Video

Audio

Articles

Download

معاملات

کاروبار شریعت کے مطابق بنائیے

Rate this item
(0 votes)

میرے محترم و مکرم ساتھیو!اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو نہایت مختصر وقت کیلئے اس دنیا میں بھیجاہے مثلا ایک آدمی کی عمر ساٹھ سال ہو گئی۔ تیس سال تو وہ سوتا ہے باقی تیس سال رہ گئے پانچ سال بڑھاپے کے کاٹو پانچ سال بچپن کے کاٹو۔تو صرف بیس سال رہ گئے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ عقل مند آدمی وہ ہے جو اپنے آپ کو پہچانے اور موت کے بعد کیلئے تیاری کرے اور بیوقوف آدمی وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات کے پیچھے لگائے اور اللہ پر امیدیں باندھے ۔لہٰذا ہم کو چاہیے کہ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جائیں۔

اسلام صرف یہ نہیں ہے جیسے اب ہمارے اعمال سے ثابت ہو چکا ہے کہ بچے کے کان میں اذان ،نکاح اور جنازہ پڑھانا تو مولوی کی سربراہی میں کچھ نہ کچھ شریعت کی رسم کے مطابق اور باقی اللہ اللہ خیر سلاّ۔ نہیں بلکہ شریعت کا خلاصہ پانچ چیزیں ہیں : ٭اپنے عقیدے کو ٹھیک کرنا ٭ اپنی عبادت کو ٹھیک کرنا٭ اپنے کاروبار کو ٹھیک کرنا٭ اپنے اخلاق کو ٹھیک کرنا٭ اور اپنی سیاست اور حکومت کو ٹھیک کرنا۔ لہٰذاان پانچ چیزوں کی اصلاح ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اﷲ کو خالق مالک مانو، مختار کل نفع نقصان کا مالک مانو، وضو ، غسل ، روزہ ، نماز حج وغیرہ درست کر لو۔ اپنے کاروبار کو درست کر لو، حلال و حرام میں تمیز کرو۔ اونچے اخلاق کے مالک بن جا¶ اور اونچا اخلاق یہ ہے کہ اپنے اندر صبر پیدا کرو۔ اور قرآن و حدیث پر عمل کرنے اور کروانے کےلئے حسب استطاعت کوشاں رہو۔ بہر حال ہم نے بات کاروبار کی کرنی ہے۔ چنانچہ اﷲ تعالی کا ارشاد ہے کہ اے مسلمانو آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھا¶(بقرہ) اور اﷲ تعالی کا ارشاد ہے : جو لوگ سود کھاتے ہیں قیامت کے دن اس حال میں اٹھیں گے جیسے کہ اس کو شیاطین چمٹ چکے ہیں(بقرہ) اور اﷲ تعالی کا ارشاد ہے: اگر تم لوگ سود کو نہیں چھوڑو گے تو تمہیں اﷲ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ ہے اور حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ رزق حلال کو طلب کرنا اﷲ کے فرائض کو ادا کرنے کے بعد فرض ہے(بیہقی) اور حضور ﷺ سے پوچھا گیا کہ کونسا کام بہتر ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا : اپنے ہاتھ سے محنت کرنا اور شریعت کے مطابق کاروبار کرنا۔(مسند احمد)۔ اور حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے(یعنی حلال کو لے لو اور حرام سے بچو) اور اس کے درمیان کچھ ایسے امور ہیں جو آدمی کو شبہ میں ڈالتے ہیں اکثر لوگ اس کو نہیں جانتے پس جو آدمی شبہات (کہ پتا نہیں یہ چیز حلال ہے یا حرام ہے) سے بچا اُس کا دیناور اس کی عزت محفوظ ہو گئی(بخاری و مسلم) اور حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ بیشک اﷲ رب العزت پاک ہے اور پاک ہی کو پسند فرماتا ہے اور اﷲ تعالی نے مسلمانوں کو وہ حکم دیا جو اپنے پیغمبروں کو دیا کہ اے رسولو کھا¶ صاف اور عمل کرو نیک ۔ اور پھر حضور اکرم ﷺ نے ایک آدمی کا ذکر فرمایا کہ جو (رزق کے تلاش کے لئے)دور کا سفر کرے بال پراگندہ ، بدن غبار آلود اور اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کر کے دعا کرتا ہے کہ اے رب اے رب اور اُس کا کھانا اور پینا اور اس کا کپڑا حرام کا ہے اور اس کو حرام کی غذا دی گئی ہے تو اُس کی دعا کس طرح قبول ہو گی(مسلم شریف) حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اﷲ تعالی نے شراب پر اس کے پینے والے پر ، اس کے پلانے والے پر، اس کے بیچنے والے پر ، اس کے خریدنے والے پر، اس کے نچوڑنے والے پر، اس کے اٹھانے والے پر اور جس کے لئے اٹھایا جا رہا ہے (ان سب) پر لعنت فرمائی ہے(ابودا¶د ، ابن ماجہ) اور حضور اکرم ﷺ نے لعنت بھیجی ہے سود کھانے والے پراور کھلانے والے پر اور لکھنے والے پر اور اس کے اوپر گواہ بننے والے پر۔ اور سب گناہ میں برابر ہیں (مسلم) ان قرآنی آیات اور احادیث سے معلوم ہوا کہ ہم کو حرام کاروبار سے بچنا چاہئے۔ مثلا بینکنگ، فکس ڈیپازٹ، سیونگ اکا¶نٹ، سیونگ سرٹیفکیٹس، PLS اکا¶نٹ، NIT،پرائم بینک، بزناس، انشورنس، شینل کمپنی چائنا، گولڈن سکیم،گولڈن کی ملاوٹ، کسی کو کاروبار کے لئے پیسے دے کر اُس سے مقررہ معلوم پیسے لینا، سود ، سٹہ ، لاٹری، پرائز بانڈز ، گروی چیز سے فائدہ اُٹھانا، ٹی وی ، وی سی آر بیچنا، کیمرے بیچنا، مرغے، بٹیراور تیتر وغیرہ لڑانا اور ان پر شرط رکھنا، بیوٹی پارلرچلانا، اور گانے بجانے کے آلات کا بیچنا اور اُن کی ریپئرنگ کرنا، ریسپشن کے لئے لڑکیوں کا انتخاب کرنا،انہیں ائیر ہوسٹس کے طور پر رکھنا و غیرہ حرام ہے۔
تاہم شیئرز کا کاروبار چند شرائط کے ساتھ جائز ہے، المیزان اور البرکہ بینک کا منافع جائز ہے، کمیشن اس صورت میں جائز ہے کہ جس سے کمیشن لو اس کو معلوم ہونا چاہئے اور اس کی رضا شامل ہونی چاہئے اور یہ کہ وہ آپ کو اپنی جیب سے دے کسی اور کی جیب کاٹ کر نہ دے، اگر کاروبار میں دونوں کے پیسے ہیں تو یہ مشارکت ہے اور اگر ایک کے پیسے کی محنت ہے تو یہ مضاربت ہے ان دونوں میں کسی ایک کےلئے معین پیسہ مقرر کرنا حرام ہے۔ تاہم فیصد کے اعتبار سے پیسے مقرر کرنا جائز ہے۔ اور اگر نقصان ہوجائے تو مشارکت میں پیسوں کے مطابق ہر ایک پر نقصان آئے گا اور مضاربت میں پیسے والے کا پیسہ جائے گا ، محنت والے کی صرف محنت جائے گی اُس پر نقصان نہیں ڈالا جائے گا، قسطوں کا کاروبار جائز ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ایک ہی قیمت مقرر ہو جائے، چیز لینے والی کی سستی کی وجہ سے قیمت میں اضافہ کرنا سود ہے۔ اور اگر لینے والا چیز واپس کر دے تو اس کی ادا شدہ قسطیں کھانا حرام ہے بلکہ چیز میں جتنا نقصان آیا ہے صرف اتنے پیسے کاٹنے جائز ہیں۔ ٹیکسی کسی کو کرائے پر دے کر اُس سے روزینہ مقررہ پیسے لینا جائز ہے۔ سنوکر ، کیرم بورڈ، والی بال، کرکٹ ، فٹ بال، ہاکی، گھوڑ ریس وغیرہ جائز ہیں (لیکن ان پر دوطرفہ شرط لگانا حرام ہے)۔ کرائے پر چیزیں دینا جائز ہیں
بہتر یہ ہے کہ ہر مسلمان کے پاس کچھ ایسی کتابیں ہوں جن میں دنیا میں اﷲ کے احکام اور نبی کریم ﷺ کے طریقوں کے مطابق زندگی گزارنے کا تذکرہ ہو تا کہ قبر و آخرت کی فکر بھی پیدا ہو جائے۔ مثلا معارف القرآن٭ معارف الحدیث٭ آپ کے مسائل اور ان کا حل٭اسوہ رسول اکرم٭ اختلاف امت اور صراط مستقیم ٭ فقہ اسلامی (از مجیب اﷲ ندوی) ٭حلال و حرام (از خالد رحمانی)٭ بہشتی زیورجدید (مولفہ ڈاکٹر عبدالواحد صاحب)

Contact us

Mufti Muhammad Ismail Toru

Jamia Masjid-e-Aqsa Street No. 2 Railway Scheme No. 7 Railway Hospital Near Passport Office, Rawalpindi
Phone no. : 
+92 335 0290786 (for SMS n Call)
+92 311 4440006 (for whatsapp)
Email 1 : This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
Email 2 : This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. (in case you don't get answered from Email 1)
Timing : 11 AM - 1:00 PM , and between Magrib & Esha Prayers, Thursday & Friday is Off

Bank Information :

Account Holder: Mufti Muhammad Ismail Toru
Account number: 0100296832013
Branch code 822
IBAN : pk65AIIN00001002966832013
Al Baraka bank, Bank Road, Rawalpindi