سوال : جناب امیر جماعت حنیف صاحب ، جماعت المسلمین اور حزب الله والے حضرات میں نے آپ کی کتابوں کا مطالعه کیا ہے، مطالعه کے بعد میرے ذہن میں چند سوالات پیدا ہوئے ہیں، میں آپ کے علماء کے پاس گیا، لیکن کسی نے آج تک مجھے تسلی بخش جواب نہیں دیا، پھر ایک آدمی نے مشوره دیا که آپ سوالات لکھ کر حنیف صاحب کی طرف بھیج دیں، میں مندرجه ذیل سوالات لکھ کر آپ کی طرف بھیج رہا ہوں الله کے لئے قرآن وسنت کی روشنی میں ان سوالات کے جوابات دیں۔

سوال نمبر۱: آپ لوگ حدیث شریف کی روشنی میں کہتے ہیں که ہر دور میں ایک جماعت حق پر ہوتی ہے، اس دور میں ہم حق پر ہیں، میرا سوال یه ہے که مسعود الدین عثمانی سے پہلے بھی تو کوئی جماعت حق پر تھی تو وه کونسی جماعت تھی، ان میں سے چند لوگوں کے نام بتا دیں جو حق پر تھے، اور عثمانی صاحب نے ان حق والوں کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟ انہیں نئی جماعت بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
سوال نمبر۲: آپ لوگ امام احمد بن حنبل ؒ پر (نعوذ باللہ) کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں، آپ مجھے گزشته باره سو سال میں کوئی ایسا حق والا محدث، ولی الله یا عالم دین بتا دیں جس نے امام احمد بن حنبلؒ پر آپ کی طرح (معاذ اللہ) کفر کا فتویٰ لگایا ہو، کیونکه آپ لوگ باقی چیزوں کے ساتھ تو دلیل دیتے ہیں که یه صرف ہم نہیں کہه رہے بلکه فلاں امام نے بھی یه کہا ہے، فلاں محدث نے بھی یه کہا ہے ، اس طرح ادھر بھی کسی محدث یا امام کی دلیل دیدیں۔
سوال نمبر ۳: آپ لوگ کہتے ہیں که امام بخاریؒ حق پر تھے اور امام احمد بن حنبلؒ (معاذ اللہ ) مشرک تھے حالانکه امام احمد بن حنبلؒ امام بخاریؒ کے استاد تھے اور امام بخاریؒ نے اپنی کتاب میں امام احمدؒ کے لئے دعا کی ہے یعنی امام احمد بن حنبل کے نام ساتھ رحمته الله علیه لکھا ہے، اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
سوال نمبر ۴: مسعود عثمانی کی ایک کتاب ہے "موازنہ"اس کتاب میں مسعود عثمانی صاحب نے امام احمدؒ کو اہل تشیع ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور یه بھی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے که مسند احمد کی روایتیں غلط ہیں، سوال یه پیدا ہوتا ہے که ایک طرف تو آپ مسند احمد کی روایتوں کوغلط اور امام احمد ؒ کو اہل تشیع ثابت کرتے ہیں اور (معاذ اللہ ) انہیں مشرک کہتے ہیں اور دوسری طرف آپ اپنے دلائل میں مسند احمد کی بے شمار روایتیں پیش کرتے ہیں یه بات سمجھ سے باہر ہے کیونکه ایک شخص مشرک ہے تو پھر اس کی روایتوں کا کیسے اعتبار کیاجاسکتاہے ؟ اس بارے میں آپ کا کیاخیال ہے؟
سوال نمبر۵: حدیث شریف میں ہے که جو شخص کسی مسلمان کو کافر کہتا ہے ان میں سے ایک کافر ہو جاتا ہے، یا تو جسے کافر کہا گیا ہے وه واقعی کافر ہے اور اگر نہیں تو پھر کہنے والا کافر ہو جاتا ہے، اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
سوال نمبر۶:مسعود عثمانی صاحب کی کتاب" کیا دینی امور پر اجرت لینا جائز ہے"کے اندر سورہ روم کی ایک آیت لکھی گئی ہے اور عثمانی صاحب نے اس کا ترجمه یه کیا ہے که" فرقوں میں پڑ کر مشرک مت بن جانا"(سورۃ روم آیت :۳۲)، آپ مہربانی فرما کر قرآن پاک کھولیں اور سورۃ الروم کی آیت نمبر ۳۲ کا ترجمه پڑھیں، کیا اس آیت کا یہی ترجمه ہے جو آپ لوگوں نے کیا ہے؟ میرے علم کے مطابق آیت نمبر ۳۲ میں تو مشرک کا لفظ ہی نہیں ہے عثمانی صاحب نے دو لفظ آیت ۳۱ کے لئے اور باقی آیت ۳۲ ساتھ لکھ دی اور مطلب یه نکال لیا که فرقوں میں پڑ کر مشرک مت بن جانا، حالانکه آیت نمبر ۳۱ میں نماز کا ذکر ہو رہا ہے یعنی نماز چھوڑ کر مشرک نه بن جانا، عثمانی صاحب نے "مشرک"کا لفظ اگلی آیت کے ساتھ ملا کر یه لکھ دیا که فرقوں میں پڑ کر مشرک نه بن جانا، کیا عثمانی صاحب کے بعد آپ میں کوئی عالم دین ایسا نہیں ہے جو اسے چیک کرے ، دیکھے اور ٹھیک کرے؟ اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
سوال نمبر۷: آپ کے ادله کتنے ہیں؟ قرآن حدیث یا اس سے آگے کچھ اور بھی؟
سوال نمبر۸: کتابوں کی دکانوں پر قرآن وحدیث کی جو کتابیں فروخت ہوتی ہیں اس کا فروخت کرنا یا خریدنا جائز ہے یا ناجائز؟
سوال نمبر۹: حضور صلی الله علیه وسلم کے جسم مبارک کے متعلق آپ کا کیا عقیده ہے؟ وه کس حال میں ہیں زمین کھا گئی یا نہیں؟
سوال نمبر۱۰: آپ لوگ کہتے ہیں که دنیوی قبر میں عذاب نہیں ہو گا اور دنیاوی قبر میں روح لوٹانے کے عقیدے کی وجه سے امام احمدؒ پر فتویٰ لگاتے ہیں تو جناب یه احادیث تو بخاری شریف میں بھی ہیں، بخاری شریف کی مندرجه ذیل احادیث کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے جو عذاب قبر کے متعلق ہیں:
(1) آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: " جب آدمی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں، تو وه ان کے جوتوں کی آوازتک سنتا ہے اس وقت اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اس کو بٹھاتے ہیں،اور اس سے سوال کرتے ہیں کہ تو ان صاحب (محمد صلی الله علیه وسلم) کے بارے میں کیا اعتقاد رکھتا ہے؟ وه کہتا ہے که میں گواہی دیتا ہوں وه الله کے بندے اور اس کے رسول ہیں، پھر اس سے کہا جاتا ہے دوزخ میں جو تیری جگه تھی اس کو دیکھ لے الله نے اس کے بدلے تجھے بہشت میں ٹھکانا دیا، آنحضرت صلی الله علیه وسلم نے فرمایا که وه اپنے دونوں ٹھکانے دیکھتا ہے، اور کافر یا منافق فرشتوں کے جواب میں کہتا ہے کہ میں نہیں جانتا، میں تو وہی کہتاتھا جو لوگ کہتے تھے، پھر اس سے کہا جائے گا نه تو نے خود غور کیا اور نه عالموں کی پیروی کی پھر لوہے کی گرز سے اس کے کانوں کے بیچ ایک مارلگائی جاتی ہے، وه ایک چیخ مارتا ہے که اس کے پاس والی ہر مخلوق سوائے انسان اور جنات کے سن لیتی ہے۔
(2) بخاری میں ایک روایت ام المؤمنین حضرت عائشه رضی الله عنہا کی روایت سے نقل کیا ہےکہ"ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی اور قبر کے عذاب کا ذکر کرکے کہنے لگی الله تجھ کو قبر کی عذاب سے بچائے رکھے، حضرت عائشه رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نے آنحضرت صلی الله علیه وسلم سے پوچھا کیا قبروں میں عذاب ہو گا؟ آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا ہاں قبر کا عذاب سچ ہے، حضرت عائشہؓ کہتی ہیں پھر میں نے اس کے بعد آنحضرت صلی الله علیه وسلم کو کبھی نہیں دیکھا که آپؐ نے کوئی نماز پڑھی ہو مگر اس میں قبر کے عذاب سے پناه نہ مانگی ہو ، غندر نے اپنی روایت میں اتنا اضافه کیاکه عذاب قبر برحق ہے ۔
(3) حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے ابو ایوب انصاریؓ سےسنا کہ آنحضرت صلی الله علیه وسلم سورج ڈوبنے کے بعد مدینه سے باہر گئے وہاں ایک آواز سنی فرمایا که یہودیوں کو ان کی قبر میں عذاب ہو رہا ہے، اور یہی روایت ایک اور طریق نضربن شمیل کی سند سے بھی نقل فرمائی ہیں ۔
(4) حضرت عبدالله بن عباسؓ کی روایت نقل کی ہےکہ انہوں نے فرمایا کہ آنحضرت صلی الله علیه وسلم دو قبروں پر سے گزرے آپ صلی الله علیه وسلم نے فر مایا ان کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑی بات میں نہیں، پھر فرمایا البته ان میں سے ایک چغلی کھاتا پھرتا تھا (غیبت کرتا تھا) اوردوسرا اپنے پیشاب سے احتیاط نہیں کرتا تھا، ابن عباسؓ نے فرمایا کہ پھر آپؐ نے ایک بڑی ٹہنی لی، اس کو توڑ کر دو ٹکڑے کئے اور ہر قبر پر ایک ٹکڑا لگا دیا پھر فرمایا، شاید جب تک یہ نه سوکھیں ان کا عذاب کم ہو۔
سوال نمبر۱۱: آپ لوگ کہتے ہیں که دنیوی قبر میں عذاب نہیں ہو گا کیونکه بہت سے لوگوں کو تو قبر نصیب ہی نہیں ہوتی، کوئی پانی میں بہه جاتا ہے کسی کو کوئی جانور کھا جاتا ہے اور کسی کو جلا دیا جاتا ہے، جناب آپ صرف یه بتا دیں که قیامت کے دن سب مردے جب اپنی قبروں سے نکل کر اپنے پروردگار کی طرف چلنے لگیں گے، تو وه زمین والی قبر سے اٹھ کر چلیں گے یا آسمان والی سے، ارشاد ربانی ہے:" جب صور کے پھونکے جاتے ہی سب کے سب اپنی قبروں سے اپنے پروردگار کی طرف (تند تیز ) چلنے لگیں گے"۔( یٰسین ۵۱)
سوال نمبر۱۲ : آپ لوگ کہتے ہیں که جو عالم دین اجرت لیتا ہے اس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی، کیونکه دینی امور پر اجرت لینا حرام ہے، جناب آپ یه بھی کہتے ہیں که امام ابو حنیفہؒ امام مالکؒ، امام شافعیؒ، تینوں حق پر تھے، اور آپ لوگ امام ابو حنیفہؒ کا فتوی بھی دکھاتے ہیں که انہوں نے دینی امور پر اجرت لینا ناجائز قرار دیا ہے، لیکن میرے علم کے مطابق امام مالکؒ ور امام شافعیؒ یه دونوں دینی امور پر اجرت کے حق میں تھے، ادھر آپ کہتے ہیں که اجرت والے امام کے پیچھے نماز نہیں ہوتی اور ادھر تینوں ائمه کو آپ حق پر بھی کہتے ہیں، حالانکه ایک امام اجرت کے خلاف ہے اور دو اجرت کے حق میں ہیں ۔ ان سوالات کے تحقیقی جوابات (نه که الزامی) مطلوب ہیں۔
سوال نمبر۱۳: آپ اہل سنت والجماعت ہیں یا اہل حدیث؟ اپنا مذہبی نام بتائیں ۔
سوال نمبر۱۴: اگر کوئی کافر اپنا نام مسلمان رکھ دے تو پھر آپ اپنے آپ کو مسلمان کہلانا چھوڑدیں گے؟
سوال نمبر۱۵: دادی اور نانی کے ساتھ نکاح حرام ہے یا حلال؟ قرآن و حدیث سے صریح دلیل دیں، قیاس نه کریں۔
سوال نمبر۱۶: جس کے پاس سو بھینسیں ہوں اس میں حضور صلی الله علیه وسلم نے کتنی زکوٰۃ بتائی ہے؟
سوال نمبر۱۷: بھینس کا دودھ اور گوشت حلال ہےیا حرام ؟ صریح دلیل دیں، قباس نه کریں۔
سوال نمبر ۱۸: دادی کی کتنی میراث ہے اور نانی کی کتنی ہے؟ قرآن وحدیث سے صراحت کریں۔
سوال نمبر۱۹: ابھی ۱۴۲۵ھ ہے دوسو سال قبل ۱۲۲۵ھ سے پہلےایسی قرآن کی دس تفاسیر، بخاری ومسلم کی دس شروحات، صرف ونحو کی پانچ پانچ کتابیں پیش فرمائیں جو آپ حضرات نے لکھی ہوں، اور اپنے مدارس کا نصاب بھیج دیں۔
سوال نمبر ۲۰: آپ حضرات کا جو امیر تھا( مسعود) اس کے اپنے بھائی کے ساتھ اختلافات کیوں ہو گئے تھے۔ وه اختلافات کیا تھے؟
سوال نمبر ۲۱: نماز کے اندر کتنے فرائض ، کتنے واجبات اور کتنی سنتیں ہیں؟ قرآن وحدیث سے صحیح تعداد بتائیں ۔
سوال نمبر ۲۲: تعداد بتائیں که کتنی چیزوں سے نماز بالکل ٹوٹ جاتی ہے؟ اوریہ تعدادبھی بتائیں که کتنی چیزوں سے سجده سہولازم آتا ہے؟
سوال نمبر ۲۳: اکیلا نمازی دوپیروں کے درمیان کتنی جگه چھوڑے؟
سوال نمبر ۲۴: ابھی آپ کا امیر کون ہے؟ اس سے پہلے کون تھا پھر اس سے پہلے اور اس سے پہلے کون تھا؟ چلو باقی نه بتاؤ ؟
سوال نمبر ۲۵: آپ لوگوں نے علم کس سے حاصل کیا ہے سلسله سند بتائیں ؟ چانچه مسلم شریف کے مقدمه میں ہے " لولا الا سناد لقال من شاء ماشاء" کہ اگر دین مین سند نه ہوتی تو جو بھی آدمی جو چاہتا دین کے بارے میں کہتا رہتا۔
سوال نمبر۲۶: جتنے اسلامیات، دینیات اور تجوید کے ٹیچر، سکول، کالجز، یونیورسٹیز میں پڑھاتے ہیں، ان کی تنخواه جائز ہے یا ناجائز؟ ایسے لوگوں کے پاس اپنے بچوں کو بھیجنا حلال ہے یا حرام؟ جو لوگ بچے بھیج رہے ہیں وه ٹھیک کر رہے ہیں یا حرام؟
سوال نمبر۲۸: کیا آپ کی اصول فقہ، اجماع اور قیاسِ صحیح کی کتب ہیں؟
سوال ۲۸: قاری حفص کیسا ہے؟ اور اس کی قرآت پر قرآن پڑھنا کیسا ہے؟(جبکه ہم پڑھ رہے ہیں)
سوال نمبر۲۹: لوگوں کی یه بات کہاں تک درست ہے که آپ لوگوں غیروں کے ایجنٹ ہیں؟ نه آپ کا کوئی مدرسه ہے اور نه مسجد جس میں آپ کا امام مقرر ہو، بلکه ہمارے حنفی مقلد ہی پڑھاتے ہیں اور جہان کہیں آپ کا آدمی امام ہو وه انٹرنیشنل جاہل ہوتا ہے اس کی سورۃ فاتحه کی تجوید بھی صحیح نہیں ہوتی، بس گھروں اور مجلسوں میں اسلام کے اتحاد کا شیرازه (چند مفت کتابیں ردی کا غذ پر چھاپ کر اور مفت تقسیم کرکے )بکھیرتے ہیں، گانا بجانا، فلمیں ، ڈرامه ، بے پردگی اسلامی خلافت، جہاد اور نہی عن المنکر پر کوئی کتب آپ نہیں چھاپتے کیوں؟
سوال نمبر۳۰: یه سوالات اس لئے کیے ہیں که اگر آپ عالم دین ہیں تو ہم کو صحیح سمجھائیں گے اور ہم مانیں گے انشاء اللہ، لیکن ذرا یه بتائیں که آپ لوگ دینی علوم جانتے ہیں، صرف نحو ادب وغیرہ، اگر ہم ایک عالم دین لڑکا آپ کے پاس بھیج دیں تو کیا آپ عربی عبارت ان کے سامنے صحیح پڑھ سکیں گے یا نہیں؟ (ناراضگی کی معافی چاہتے ہیں)۔
سوال نمبر۳۱: کلام اور شطحه میں فرق بتاؤ، کیا "شطحہ"پر حکم لگانا جائز ہے؟ اس حدیث کا کیامطلب ہے جوکہ ایک صحیح حدیث ہے که حضور صلی الله علیه وسلم ایک آدمی کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں که اس سے سفر کا ضروری سامان گم ہو اوروه مایوس ہوکر لیٹتا ہے، جب سوکر اٹھ جاتا ہے تو سواری سمیت سامان مل جاتا ہے تو ایسی حالت میں آدمی کہتا ہے که "یا الله تو میرا بنده اور میں تیرا رب ہوں" حضورؐ فرماتے ہیں که الله تعالیٰ کو اس بندے کا قول بڑا پسند آتا ہے (مشکوٰۃ) اس حدیث کا کیا مطلب ہے؟
نوٹ: جن کو ہم نے مخاطب کیا ہے وه سب اپنے اپنے سوالات کے جوابات دیں۔ فقط والله تعالیٰ اعلم

 

 بحرالرائق جلد: ۵ /ص ۱۲۵، ایسی ہی عبارت "شرح فقه اکبر "(صفحه: ۲۳۷ )پر بھی ہے۔
فتاوی حقانیه ج: ۱ / ص :۱۱۴
ونقل صاحب المضمرات عن الزخیرة ان فی المسئلة اذاکان وجوه تو جب التکفیرووجه واحدبمنع التکفیر وفعل المفتی ان یمیل الی الذی یمنع التکفیر تحیناً الظن بالمسلم، ثم ان کان نیته القائل الوجه الذی یمنع التکفیر فھومسلم وان کان نية الوجه الذی تو جب النکفیر لا ینفعه فتوی المفتی( شرح فقه اکبر ص: ۲۳۷ وبحرالرائق جلد :۵ /ص :۱۲۵)
وقد ذکرو ان المسئلة المتعلقة بالکفر اذاکان لھا تسع وتسعون احتمالاً لکفرواحتمال واحد فی نفیهه فالا ولیٰ للمفتی والقاضی ان یعمل بالاحتمال للثانی (شرح فقه اکبرصفحه: ۲۳۷)