سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسائل کے بارے میں :
ایک ۔ نحوست کہاں تک درست ہے یعنی اگر بائیں آنکھ پھڑکے تو لوگ اس سے مراد پریشانی لیتے ہیں اور کہتے ہیں که اس میں نحوست ہے، پھر اس کے بعد واقعتا اگر پریشانی آئے تو اس کی تصدیق کرنی چاہیے که نہیں ؟
دو۔ لوگ کہتے ہیں که بعض مکانوں میں یا دوکان میں نحوست ہوتی ہے، یعنی مکان میں رہنے والوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑھتا ہے، اگر وه اس مکان سے نکل جائیں تو پھر پریشانی ختم ہو جاتی ہے اس کے بعد اس مکان میں کوئی اور فیملی آئے تو اس کو بھی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑھتا ہے، عورتیں عام طور پر ایک حدیث سناتی ہیں که نبی اکرم صلی الله علیه وسلم نے فرمایا کہ نحوست تین چیزوں میں ہے: (1)مکان میں (2) سواری میں (3) عورت میں۔
تین، بعض لوگ کہتے ہیں که مہینوں کے آخری ایام میں نحوست ہوتی ہے، اور ہفتے کے دنوں میں منگل اور بدھ کو نحوست ہوتی ہے ۔
الجواب وبالله التوفيق: اسلام میں بدفالی کا تصور نہیں ، حضور اکرم صلی الله علیه وسلم کا ارشاد ہے:" لاعدوہ ولا طیرۃ "(بخاری) بدفالی نہیں ہاں نیک شگون ہے، باقی جس حدیث کو سوال میں ذکر کیاگیا ہے اس کا مطلب یه ہے که اگرنحوست ہوتی تو ان تین چیزوں میں ہوتی لیکن نحوست نہیں ہے، باقی چپل کا الٹا ہونا، پرندے کا بولنا، مرغی کا اذان دینا ،بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کا کجلی کرنا، بائیں آنکھ کا پھڑکنا، ناخن کا سفید ہونا وغیره کچھ نہیں ہے اس طرح مختلف دنوں ، مہینوں کے مابین اور محرم میں شادی کرنا وغیره میں بھی کوئی نحوست نہیں ہے یہ لوگوں کے خود ساختہ اوہام وخیالات فاسدہ ہے ۔
" نعره عید میلاد النبی " کے جواب میں مرده باد کہنا
سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئله کے بارے میں کہ اگر کوئی آدمی "نعره عید میلادالنبی" کے جواب میں (معاذ اللہ ) مرده باد کہتا ہے اور یه کہتا ہے که میری نیت بریلوی حضرات کو جلانے کی تھی، گستاخی کی نه تھی، ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا رسول الله صلی الله علیه وسلم کی گستاخی میں نیت شرط ہے یا نہیں؟ "اکفار الملحدین"میں حضرت موالانا انور شاه کشمیریؒ فرماتے ہیں که اس میں نیت شرط نہیں اسی طرح قاضی غیاضؒ "شفا"میں بھی فرماتے ہیں، اگر کوئی آدمی اس میں تاویل کرتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ یه آدمی کہتا ہے که یه بات کفر نہیں باوجود جاننے کے، اور کہتا ہے که بریلویوں کو جلانے کے لئے جائز ہے، ایسے شخص کا کیا حکم ہے؟ "التاویل کالکفر"یه حضرت مولانا انور شاه کشمیری کی عبارت ہے اس کا کیا مطلب ہے ؟
الجواب وبالله التوفيق: حضرات فقہاء کرام محتاط طبقه ہے جن کو الله تبارک وتعالیٰ نے دین کی گہری بصیرت سے نوازا ہے اور ہر مسئله کے حدود اور شرائط کو بحمد الله بخوبی جانتے ہیں اور کسی کو کافر قرار دینے میں وه انتہائی حزم واحتیاط سے کام لیتے ہیں اس مستند طبقه نے تکفیر کے بارے میں جو ضابطه لکھا ہے وه ہر مسلمان کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے، چنانچه امام زین العابدین ابن نجیم المصری الحنفی خلاصه میں لکھتے ہیں که:" اگر کسی کے قول میں ۹۹ وجوه کفر کے ہوں اور صرف ایک وجه اسلام کی ہو تو مفتی کو اس وجه کی طرف مائل ہونا چاہیے جو تکفیر سے مانع ہے کیونکه مسلمان کے بارے میں حسن ظن سے کام لینا چاہیے "
اور حضرت مولانا انور شاه کشمیریؒ کی عبارت کی "التاویل کالکفر" کا مطلب یه ہے که بے ادبی کے الفاظ تاویل کے ساتھ بولنا کفر کی طرح عظیم گناه ہے نه که عین کفر ہے، لیکن ہر مسلمان پر تمام انبیاء علیہم السلام کا احترام واجب ہے کیونکه انبیاء کرام الله تعالیٰ کے برگزیده بندے ہوتے ہیں، ان پر کوئی عیب لگانا یا ان کی شان میں بے ادبی کے الفاظ یا کلمات سے اجتناب کرنا واجب ہے۔
مذکوره تفصیل کی روشنی میں شخص مذکوره پر کفر کا فتوی نہیں لگایا جا سکتا ہے، ایک تو اس وجه سے که اس کے الفاظ صریح کفر نہیں ہے، نیز اس نے اپنی نیت کی بھی وضاحت کر دی که اس کی نیت معاذ الله گستاخی کی نہیں تھی۔ دوسرا یه که "نعره عید میلادالنبی" کی خود بھی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے اور یه رسم بذات خود بدعت ہے، اس کے جواب میں تو زنده باد کہنا بھی بدعت کی تائیداد اور حمایت ہے۔ فقط والله تعالیٰ اعلمم
بحرالرائق جلد: ۵ /ص ۱۲۵، ایسی ہی عبارت "شرح فقه اکبر "(صفحه: ۲۳۷ )پر بھی ہے۔
فتاوی حقانیه ج: ۱ / ص :۱۱۴
ونقل صاحب المضمرات عن الزخیرة ان فی المسئلة اذاکان وجوه تو جب التکفیرووجه واحدبمنع التکفیر وفعل المفتی ان یمیل الی الذی یمنع التکفیر تحیناً الظن بالمسلم، ثم ان کان نیته القائل الوجه الذی یمنع التکفیر فھومسلم وان کان نية الوجه الذی تو جب النکفیر لا ینفعه فتوی المفتی( شرح فقه اکبر ص: ۲۳۷ وبحرالرائق جلد :۵ /ص :۱۲۵)
وقد ذکرو ان المسئلة المتعلقة بالکفر اذاکان لھا تسع وتسعون احتمالاً لکفرواحتمال واحد فی نفیهه فالا ولیٰ للمفتی والقاضی ان یعمل بالاحتمال للثانی (شرح فقه اکبرصفحه: ۲۳۷)